سن 35 ہجری میں خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت کے بعد اسلامی ریاست ایک ایسے سیاسی بحران میں داخل ہوئی جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔ مدینہ میں حضرت علی بن ابی طالبؓ کی خلافت پر بیعت ہوئی، لیکن شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے یہ بیعت قبول نہیں کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے پہلے قصاص لیا جائے، جبکہ حضرت علیؓ کا مؤقف یہ تھا کہ پہلے ریاست میں امن و استحکام قائم کیا جائے، پھر قانونی طریقے سے قاتلوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ اختلاف رفتہ رفتہ سیاسی کشمکش میں تبدیل ہوا، پھر مذاکرات ہوئے، خطوط کا تبادلہ ہوا، لیکن جب کوئی حل نہ نکلا تو دونوں لشکر دریائے فرات کے قریب صفین کے مقام پر آمنے سامنے آ گئے۔ سن 37 ہجری میں ہونے والی یہی جنگ اسلامی تاریخ میں جنگِ صفین کے نام سے مشہور ہوئی۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت اور حضرت علیؓ کی خلافت پر بیعت (35 ہجری)
35 ہجری: مدینہ میں ایک غیر معمولی بحران
ذوالحجہ 35 ہجری میں خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ باغیوں کے محاصرے کے دوران اپنے گھر میں شہید کر دیے گئے۔ ان کی شہادت کے بعد اسلامی ریاست مرکزی قیادت سے محروم ہو گئی اور مدینہ میں شدید سیاسی بے یقینی پیدا ہوگئی۔
اس وقت سلطنتِ اسلامیہ کے مختلف صوبوں میں گورنر موجود تھے، لیکن دارالحکومت مدینہ میں فوری طور پر نئے خلیفہ کا انتخاب ضروری تھا، کیونکہ خلافت خالی رہنے سے انتشار مزید بڑھ سکتا تھا۔
حضرت علیؓ کی بیعت
ابتدائی تاریخی کتابوں جیسے تاریخ الطبری، طبقات ابن سعد، انساب الاشراف (بلاذری) اور تاریخ خلیفہ بن خیاط میں اس بیعت کا ذکر موجود ہے، اگرچہ بعض جزوی تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
اس مرحلے کی تاریخی اہمیت
یہ واقعہ جنگِ صفین کو سمجھنے کی بنیاد ہے، کیونکہ اسی بیعت کے بعد حضرت علیؓ اسلامی ریاست کے خلیفہ بنے۔ بعد کے تمام سیاسی واقعات، جن میں حضرت معاویہ کا بیعت سے انکار، شام کی پالیسی، مذاکرات اور آخرکار جنگِ صفین شامل ہیں، اسی مرحلے کے بعد پیش آئے۔
تاریخی شواہد کے مطابق حضرت علیؓ کی خلافت کا آغاز مدینہ میں بیعت کے ذریعے ہوا۔ اس وقت تک حضرت معاویہ نے نہ بیعت کی تھی اور نہ ہی کھل کر مخالفت کا اعلان کیا تھا۔ شام کا موقف اگلے مرحلے میں سامنے آتا ہے، جب حضرت علیؓ نے نئے گورنروں کی تقرری اور تمام صوبوں سے بیعت کی تجدید کا عمل شروع کیا۔
حضرت علیؓ کا حضرت معاویہ کو خط، شام کا موقف، اور بیعت سے انکار
حضرت علیؓ کا پہلا انتظامی فیصلہ
خلافت سنبھالنے کے بعد حضرت علیؓ نے اسلامی ریاست کے مختلف صوبوں میں نئے گورنروں کی تقرری کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان کو بھی خط لکھا گیا کہ وہ نئے خلیفہ کی بیعت کریں اور شام کی حکومت نئے مقرر کردہ گورنر کے حوالے کر دیں۔
ابتدائی تاریخی کتابوں، جیسے تاریخ الطبری، انساب الاشراف (بلاذری)، طبقات ابن سعد اور تاریخ خلیفہ بن خیاط میں ان خطوط اور انتظامی تبدیلیوں کا ذکر ملتا ہے، اگرچہ بعض جزئیات میں اختلاف موجود ہے۔
حضرت معاویہ کا جواب
حضرت معاویہ نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی اور شام کی حکومت بھی اپنے پاس برقرار رکھی۔
ان کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ:
- حضرت عثمانؓ ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔
- ان کے قاتلوں کو ابھی سزا نہیں ملی۔
- جب تک حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے قصاص نہیں لیا جاتا، وہ بیعت نہیں کریں گے۔
اسی بنیاد پر انہوں نے شام میں حضرت عثمانؓ کی خون آلود قمیص اور ان کی اہلیہ حضرت نائلہؓ کی کٹی ہوئی انگلیاں لوگوں کے سامنے پیش کیں، جس سے شام کے عوام میں شدید جذبات پیدا ہوئے اور قصاصِ عثمان کا مطالبہ مزید مضبوط ہوا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کے درمیان سیاسی اختلاف واضح صورت اختیار کرتا ہے۔
تاریخی ترتیب کے مطابق:
- حضرت علیؓ پہلے ہی خلیفہ منتخب ہو چکے تھے۔
- انہوں نے تمام صوبوں سے بیعت کی تجدید کا مطالبہ کیا۔
- حضرت معاویہ واحد طاقتور گورنر تھے جنہوں نے بیعت سے انکار کیا اور اپنی صوبائی حکومت برقرار رکھی۔
اسی مرحلے سے اسلامی ریاست عملاً دو سیاسی مراکز میں تقسیم ہونا شروع ہوئی: ایک مدینہ (بعد میں کوفہ) کی مرکزی خلافت، اور دوسرا شام، جہاں حضرت معاویہ کی حکومت برقرار رہی۔
یہ اختلاف بعد میں خطوط، سفارتی مذاکرات اور بالآخر جنگِ صفین کا سبب بنا۔
قصاصِ عثمان پہلے یا خلیفہ کی بیعت؟ اصل اختلاف کیا تھا؟
حضرت معاویہ کی طرف سے پیش کیا جانے والا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے پہلے قصاص لیا جائے، پھر نئے خلیفہ کی بیعت کی جائے۔
دوسری طرف حضرت علیؓ کا مؤقف اس سے مختلف تھا۔
حضرت علیؓ کا مؤقف
حضرت علیؓ کے سامنے اس وقت کئی سنگین مسائل موجود تھے۔
- مدینہ میں سیاسی انتشار تھا۔
- حضرت عثمانؓ کے قاتل مختلف قبائل اور گروہوں میں پھیل چکے تھے۔
- اسلامی ریاست کے مختلف علاقوں میں بدامنی تھی۔
- نئے خلیفہ کی اتھارٹی ابھی تمام صوبوں میں قائم نہیں ہوئی تھی۔
اسی لیے حضرت علیؓ کا فیصلہ یہ تھا کہ:
- پہلے پوری اسلامی ریاست کو ایک مرکزی حکومت کے تحت متحد کیا جائے۔
- تمام صوبے نئے خلیفہ کی بیعت کریں اور ریاستی نظم بحال ہو۔
- اس کے بعد مکمل تحقیقات اور شرعی اصولوں کے مطابق حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے قصاص لیا جائے۔
اس طرح حضرت علیؓ نے قصاص کا انکار نہیں کیا بلکہ اس کے وقت اور طریقۂ کار کو ریاستی استحکام سے مشروط قرار دیا۔
کیا حضرت معاویہ کا مطالبہ عملی طور پر قابلِ عمل تھا؟
تاریخی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت فوری طور پر قصاص نافذ کرنا ممکن تھا؟
ابتدائی تاریخی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مدینہ میں مرکزی حکومت ابھی نئے سرے سے قائم ہو رہی تھی، جبکہ حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک افراد مختلف قبائل میں منتشر تھے۔ ایسے حالات میں بغیر مکمل تحقیقات اور مضبوط ریاستی اختیار کے قصاص نافذ کرنا نہایت مشکل تھا۔
اسلامی قانون کے مطابق قتل کے مقدمے کی تحقیقات، ملزمان کی گرفتاری اور قصاص نافذ کرنا ریاست اور اس کے سربراہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسی لیے حضرت علیؓ پہلے ریاست کو مستحکم کرنا چاہتے تھے، جبکہ حضرت معاویہ پہلے قصاص پر اصرار کر رہے تھے۔
کیا حضرت معاویہ صرف قصاص چاہتے تھے یا سیاسی مفاد بھی شامل تھا؟
حضرت علیؓ نے خلافت سنبھالتے ہی مختلف صوبوں کے گورنروں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، جن میں شام کے گورنر حضرت معاویہ بھی شامل تھے۔
حضرت معاویہ نے نہ صرف بیعت سے انکار کیا بلکہ شام کی گورنری بھی برقرار رکھی۔
یہاں ایک اہم تاریخی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر حضرت معاویہ فوراً بیعت کر لیتے تو کیا وہ شام کی گورنری برقرار رکھ سکتے تھے؟
ابتدائی تاریخی کتابیں حضرت معاویہ کی نیت کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کرتیں، اس لیے یہ کہنا کہ وہ صرف اپنی گورنری بچانا چاہتے تھے تاریخی اعتبار سے ثابت شدہ دعویٰ نہیں ہے۔
البتہ ان کے عملی اقدامات سے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ قصاصِ عثمان کے مطالبے کے ساتھ شام کی سیاسی خودمختاری اور اقتدار کا مسئلہ بھی اس تنازعے میں شامل ہو چکا تھا۔ اسی وجہ سے بہت سے جدید مؤرخین اس تنازعے کو صرف قصاص کا مسئلہ نہیں بلکہ خلافت اور سیاسی اختیار کی کشمکش بھی قرار دیتے ہیں۔
اسلامی قانون میں خلیفہ کی بیعت سے انکار کی حیثیت
اسلامی سیاسی نظام میں بیعت صرف ایک رسمی اعلان نہیں بلکہ ریاستی نظم کی بنیاد سمجھی جاتی تھی۔
قرآن مجید مسلمانوں کو حکم دیتا ہے:
"اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو صاحبانِ اختیار ہوں ان کی بھی۔”
(سورۃ النساء: 59)
اسی طرح سورۂ الحجرات (49:9) مسلمانوں کے دو گروہوں کی لڑائی کی صورت میں زیادتی کرنے والے گروہ کے خلاف کارروائی کا اصول بیان کرتی ہے۔
بعد کے اسلامی فقہاء نے انہی اصولوں کی بنیاد پر قائم شدہ خلیفہ کے خلاف مسلح خروج کو بغی (بغاوت) کے باب میں شامل کیا۔
تاریخی ترتیب کے مطابق حضرت علیؓ کی خلافت قائم ہو چکی تھی اور ان کی بیعت ہو چکی تھی، جبکہ حضرت معاویہ نے بیعت سے انکار کرتے ہوئے اپنی فوج اور اپنی صوبائی حکومت برقرار رکھی۔ یہی اختلاف بعد میں صفین کی جنگ پر منتج ہوا۔
حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کے درمیان خطوط، سفارتی کوششیں اور جنگ سے پہلے آخری مذاکرات
حضرت معاویہ کی طرف سے بیعت سے انکار کے باوجود حضرت علیؓ نے فوری طور پر شام پر حملہ نہیں کیا۔ ابتدائی تاریخی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان متعدد خطوط اور سفارتی رابطے ہوئے تاکہ مسئلہ جنگ کے بغیر حل ہو سکے۔
حضرت علیؓ کے خطوط
حضرت علیؓ نے حضرت معاویہ کو پیغام بھیجا کہ:
- میری خلافت پر مدینہ میں بیعت ہو چکی ہے۔
- اسلامی ریاست کا نظم برقرار رکھنے کے لیے تمام صوبوں کا خلیفہ کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔
- پہلے بیعت کی جائے، پھر حضرت عثمانؓ کے قتل کی مکمل تحقیقات کر کے شرعی اصولوں کے مطابق قصاص لیا جائے۔
حضرت علیؓ کے نزدیک ایک خلیفہ کی موجودگی میں کسی گورنر کا اپنی الگ سیاسی پوزیشن اختیار کرنا ریاستی وحدت کے لیے خطرہ تھا۔
حضرت معاویہ کا جواب
حضرت معاویہ نے اپنے موقف کو برقرار رکھا۔
انہوں نے جواب دیا کہ:
- حضرت عثمانؓ مظلوم قتل ہوئے ہیں۔
- قاتل ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔
- جب تک قاتلوں سے قصاص نہیں لیا جاتا، وہ بیعت نہیں کریں گے۔
ابتدائی تاریخی کتابوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت معاویہ نے شام کے لوگوں میں قصاصِ عثمان کے مطالبے کو مضبوط کرنے کے لیے حضرت عثمانؓ کی خون آلود قمیص اور حضرت نائلہؓ کی کٹی ہوئی انگلیاں عوام کے سامنے پیش کیں، جس سے شام میں جذبات مزید بھڑک اٹھے۔
کیا کوئی مصالحت ممکن تھی؟
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی رابطے جاری رہے، لیکن بنیادی اختلاف برقرار رہا۔
- حضرت علیؓ کہتے تھے: پہلے بیعت، پھر قصاص۔
- حضرت معاویہ کہتے تھے: پہلے قصاص، پھر بیعت۔
کسی بھی فریق نے اپنے بنیادی مؤقف سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
حضرت علیؓ کا شام کی طرف روانہ ہونا
جب مذاکرات ناکام ہو گئے تو حضرت علیؓ نے فیصلہ کیا کہ اسلامی ریاست کی مرکزی اتھارٹی قائم کرنے کے لیے شام کی طرف پیش قدمی کی جائے۔
اس وقت تک حضرت علیؓ دارالحکومت مدینہ سے کوفہ منتقل کر چکے تھے، کیونکہ عراق ان کا اہم عسکری اور سیاسی مرکز بن چکا تھا۔
حضرت علیؓ اپنی فوج کے ساتھ کوفہ سے روانہ ہوئے، جبکہ حضرت معاویہ نے شام کی فوج کو صفین کے مقام پر جمع کر لیا۔
یہ مرحلہ جنگِ صفین کا فیصلہ کن موڑ تھا۔
ابتدائی تاریخی کتابوں کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں رہا تھا بلکہ اب یہ اس سوال میں تبدیل ہو چکا تھا کہ اسلامی ریاست میں حتمی سیاسی اختیار کس کے پاس ہوگا۔
تاریخی ترتیب کے مطابق:
- حضرت علیؓ قائم شدہ خلیفہ تھے۔
- حضرت معاویہ نے ان کی بیعت قبول نہیں کی۔
- متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود بیعت نہ ہوئی۔
- دونوں فریق اپنی اپنی افواج کے ساتھ صفین پہنچ گئے۔
یہیں سے اختلاف سیاسی کشمکش سے نکل کر باقاعدہ عسکری تصادم میں تبدیل ہونے لگا۔
صفین کا میدان، پانی کا تنازع، حضرت عمارؓ کی شہادت اور رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی
صفین میں دونوں لشکروں کی آمد
سن 37 ہجری میں حضرت علیؓ کا لشکر عراق سے روانہ ہو کر دریائے فرات کے کنارے صفین کے مقام پر پہنچا۔ دوسری طرف حضرت معاویہ بھی شام کی فوج کے ساتھ صفین میں موجود تھے۔
ابتدائی تاریخی کتابوں کے مطابق دونوں لشکر کئی روز تک آمنے سامنے رہے اور اس دوران ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی کوششیں کی گئیں، لیکن کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔
پانی پر کنٹرول کا واقعہ
ابتدائی تاریخی کتابوں، خصوصاً تاریخ الطبری اور وقعة صفین میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت معاویہ کے لشکر نے ابتدا میں دریائے فرات تک حضرت علیؓ کے لشکر کی رسائی روک دی۔
حضرت علیؓ نے پیغام بھیجا کہ پانی اللہ کی نعمت ہے اور اسے کسی لشکر پر بند نہیں کیا جانا چاہیے، لیکن جب راستہ نہ کھلا تو ان کے لشکر نے لڑ کر پانی تک رسائی حاصل کر لی۔
اہم بات یہ ہے کہ پانی پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے بعد حضرت علیؓ نے حضرت معاویہ کے لشکر پر پانی بند نہیں کیا بلکہ دونوں فریقوں کو پانی استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔
یہ واقعہ دونوں لشکروں کے درمیان جنگ سے پہلے پیش آنے والے اہم واقعات میں شمار ہوتا ہے
جنگ کا آغاز
مذاکرات ناکام ہونے کے بعد جنگ شروع ہوئی۔ کئی دن تک دونوں جانب سے شدید لڑائی جاری رہی اور دونوں لشکروں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
اسی جنگ کے دوران رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت عمار بن یاسرؓ حضرت علیؓ کے لشکر میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
حضرت عمارؓ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث
حضرت عمار بن یاسرؓ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے برسوں پہلے فرمایا تھا:
"عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔”
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت متعدد معتبر کتب حدیث میں روایت ہوئی ہے اور محدثین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
حضرت عمارؓ کی شہادت کے بعد یہ حدیث صفین کے میدان میں موضوعِ گفتگو بن گئی، کیونکہ حضرت عمارؓ حضرت علیؓ کے لشکر میں تھے اور مخالف لشکر کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔
حضرت معاویہ کی طرف سے پیش کیا گیا جواب
ابتدائی تاریخی کتابوں میں یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ جب حضرت عمارؓ کی شہادت کے بعد اس حدیث کا ذکر کیا گیا تو حضرت معاویہ کے حلقے کی طرف سے جواب دیا گیا:
"عمار کو ہم نے قتل نہیں کیا، بلکہ انہیں وہ لوگ قتل کرنے والے ہیں جو انہیں میدانِ جنگ میں لے کر آئے۔”
یہ روایت وقعة صفین، تاریخ الطبری اور بعض دیگر تاریخی کتابوں میں مذکور ہے۔
حضرت علیؓ کا جواب
اسی تاریخی روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے اس استدلال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
"اگر یہی منطق درست ہے تو پھر حضرت حمزہؓ کو بھی رسول اللہ ﷺ نے قتل کروایا، کیونکہ انہیں بھی رسول اللہ ﷺ ہی غزوۂ احد میں لے کر گئے تھے۔”
یہ جواب اس استدلال کی منطقی کمزوری واضح کرنے کے لیے دیا گیا کہ کسی شخص کے میدانِ جنگ میں آنے کی وجہ سے اس کے قاتل کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔
جنگِ صفین کے دوران حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت اس پورے تنازعے کا سب سے اہم واقعہ سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث موجود ہے۔
یہاں دو باتوں میں فرق کرنا ضروری ہے:
- "عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا” رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث ہے، جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔
- حضرت معاویہ کی طرف منسوب جواب اور حضرت علیؓ کا اس پر رد تاریخی کتابوں میں نقل ہوا ہے۔ یہ واقعات تاریخی روایات کا حصہ ہیں اور انہیں اسی حیثیت سے پیش کیا جانا چاہیے۔
تاریخی ترتیب کے مطابق حضرت عمارؓ حضرت علیؓ کے لشکر میں تھے، وہ صفین میں شہید ہوئے، اور ان کی شہادت کے بعد رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث اس جنگ کے بارے میں سب سے اہم دلیل بن گئی۔ اسی وجہ سے جنگِ صفین پر ہونے والی تقریباً ہر سنجیدہ تاریخی تحقیق میں حضرت عمارؓ کی شہادت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
قرآن نیزوں پر اٹھانا، تحکیم کی تجویز اور جنگ کا رک جانا
جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی
ابتدائی تاریخی کتابوں کے مطابق کئی دن کی شدید لڑائی کے بعد جنگ کا پلڑا حضرت علیؓ کے لشکر کی طرف جھکنے لگا۔ حضرت معاویہ کی فوج کو مسلسل دباؤ کا سامنا تھا اور اس کے کئی اہم سپہ سالار مارے جا چکے تھے۔
اسی مرحلے پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پوری جنگ کا رخ بدل دیا۔
قرآن نیزوں پر اٹھانے کی تجویز
ابتدائی تاریخی کتابوں، خصوصاً وقعة صفین، تاریخ الطبری اور انساب الاشراف میں ذکر ہے کہ حضرت معاویہ کے مشیر عمرو بن العاص نے یہ تجویز پیش کی کہ فوجی قرآن کے مصاحف نیزوں پر بلند کریں اور اعلان کریں:
"ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہونا چاہیے۔”
اس اعلان کا مقصد دونوں لشکروں کو جنگ روک کر ثالثی (تحکیم) کی طرف بلانا تھا۔
حضرت علیؓ کا ردِعمل
تاریخی روایات کے مطابق حضرت علیؓ نے اپنے قریبی ساتھیوں سے فرمایا کہ:
"میں ان لوگوں کو تم سے بہتر جانتا ہوں۔ یہ لوگ قرآن پر عمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ شکست سے بچنے کے لیے قرآن کو ذریعہ بنا رہے ہیں۔”
حضرت علیؓ کا مؤقف تھا کہ اگر مخالف فریق واقعی قرآن کے مطابق فیصلہ چاہتا تو وہ پہلے ہی خلیفہ کی بیعت قبول کرتا اور جنگ کی نوبت نہ آتی۔
حضرت علیؓ کے لشکر میں اختلاف
حضرت علیؓ کی فوج کا ایک بڑا حصہ، خصوصاً وہ لوگ جو بعد میں خوارج کہلائے، جنگ جاری رکھنے کے بجائے تحکیم قبول کرنے پر زور دینے لگا۔
انہوں نے کہا:
"جب مخالف فریق قرآن کی طرف بلاتا ہے تو جنگ جاری رکھنا درست نہیں۔”
حضرت علیؓ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ ایک سیاسی حکمتِ عملی ہے، لیکن لشکر کے ایک بڑے حصے نے جنگ روکنے کا مطالبہ کیا۔
ابتدائی تاریخی کتابوں کے مطابق بعض افراد نے یہاں تک دھمکی دی کہ اگر تحکیم قبول نہ کی گئی تو وہ خود حضرت علیؓ کے خلاف ہو جائیں گے۔
تحکیم قبول کرنا
بالآخر اپنے ہی لشکر کے شدید دباؤ کے باعث حضرت علیؓ نے جنگ روکنے اور ثالثی قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
اس کے بعد دونوں فریقوں نے اپنے اپنے نمائندے مقرر کیے۔
- حضرت علیؓ کی طرف سے: ابو موسیٰ اشعریؓ
- حضرت معاویہ کی طرف سے: عمرو بن العاص
یوں جنگِ صفین بغیر کسی حتمی عسکری فیصلے کے رک گئی۔
قرآن نیزوں پر اٹھانے کا واقعہ جنگِ صفین کا سب سے فیصلہ کن موڑ تھا۔
ابتدائی تاریخی کتابوں کی زمانی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ:
- جنگ جاری تھی۔
- حضرت علیؓ کے لشکر کو برتری حاصل ہو رہی تھی۔
- اسی دوران تحکیم کی تجویز پیش کی گئی۔
- حضرت علیؓ نے اس تجویز کے پس منظر پر شبہ ظاہر کیا۔
- لیکن اپنے ہی لشکر کے دباؤ کی وجہ سے اسے قبول کرنا پڑا۔
یہاں ایک اہم تاریخی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر حضرت علیؓ کا لشکر تحکیم پر اصرار نہ کرتا تو کیا جنگ کا نتیجہ مختلف ہوتا؟
اس سوال کا قطعی جواب کسی تاریخی کتاب میں موجود نہیں، لیکن واقعات کی ترتیب یہ ضرور بتاتی ہے کہ جنگ اس مرحلے پر رک گئی جب حضرت علیؓ کے لشکر کو میدان میں برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ اسی لیے بہت سے مؤرخین قرآن نیزوں پر اٹھانے کے واقعے کو صفین کی سب سے مؤثر سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں، اگرچہ اس کی نیت اور مقصد کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
تحکیم (ثالثی)، اس کے نتائج، اور تاریخی اختلافات تحکیم پر اتفاق
قرآن نیزوں پر اٹھائے جانے کے بعد دونوں فریقوں نے جنگ روکنے پر اتفاق کیا اور فیصلہ کیا کہ اس تنازعے کا حل ثالثی (تحکیم) کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
ابتدائی تاریخی کتابوں کے مطابق:
- حضرت علیؓ کی طرف سے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو نمائندہ مقرر کیا گیا۔
- حضرت معاویہ کی طرف سے عمرو بن العاص نمائندہ مقرر ہوئے۔
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ خود حضرت عبداللہ بن عباسؓ یا حضرت مالک اشترؓ جیسے افراد کو نمائندہ بنانا چاہتے تھے، لیکن ان کے لشکر کے ایک بڑے حصے نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ پر اصرار کیا، کیونکہ وہ انہیں نسبتاً غیر جانب دار سمجھتے تھے۔
تحکیم کا مقصد کیا تھا؟
تحکیم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ:
- مسلمانوں کے درمیان جاری جنگ کو روکا جائے۔
- قرآن و سنت کی روشنی میں تنازعے کا حل تلاش کیا جائے۔
- امت کو مزید خونریزی سے بچایا جائے۔
تاہم، تحکیم کے دائرۂ اختیار اور اس کی شرائط کے بارے میں تاریخی کتابوں میں مختلف تفصیلات ملتی ہیں۔
کیا ابو موسیٰ اشعریؓ دھوکہ کھا گئے تھے؟
عام طور پر ایک مشہور روایت بیان کی جاتی ہے کہ:
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے پہلے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ دونوں کو معزول کرنے کا اعلان کیا، لیکن ان کے بعد عمرو بن العاص نے صرف حضرت علیؓ کو معزول کیا اور حضرت معاویہ کو برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا، یوں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ دھوکے کا شکار ہو گئے۔
یہ واقعہ عوام میں بہت مشہور ہے، لیکن تاریخی اعتبار سے اس کی حیثیت پر سوالات موجود ہیں۔
ابتدائی تاریخی کتابوں میں اس واقعے کی تفصیلات ایک جیسی نہیں ہیں، اور بہت سے محققین نے اس روایت کی سند اور تاریخی مضبوطی پر اعتراضات کیے ہیں۔
اس لیے اس واقعے کو قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک ایسی روایت کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط اور علمی انداز ہے جس کے بارے میں تاریخی اختلاف پایا جاتا ہے۔
تحکیم کا عملی نتیجہ
ایک بات پر ابتدائی تاریخی کتابیں تقریباً متفق ہیں کہ:
- تحکیم اسلامی ریاست کا بحران ختم نہ کر سکی۔
- حضرت علیؓ کی خلافت اور حضرت معاویہ کے موقف کے درمیان اختلاف برقرار رہا۔
- دونوں فریق اپنی اپنی سیاسی پوزیشن پر قائم رہے۔
یعنی تحکیم نے جنگ تو روک دی، لیکن تنازعے کا مستقل حل پیش نہ کر سکی۔
تحکیم جنگِ صفین کے بعد اسلامی تاریخ کا دوسرا اہم موڑ ثابت ہوئی۔
واقعات کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ:
- حضرت علیؓ جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے۔
- ان کے اپنے لشکر نے انہیں تحکیم قبول کرنے پر مجبور کیا۔
- تحکیم کے بعد بھی سیاسی بحران ختم نہ ہوا۔
اسی فیصلے کے فوراً بعد حضرت علیؓ کے لشکر کا ایک گروہ یہ کہنے لگا:
"لا حکم إلا لله” (حکم صرف اللہ کا ہے)
یہی لوگ بعد میں خوارج کے نام سے مشہور ہوئے۔
یوں تحکیم نے صرف جنگِ صفین ہی کا خاتمہ نہیں کیا بلکہ اسلامی تاریخ میں ایک نئے سیاسی اور مذہبی گروہ کے ظہور کی بھی بنیاد رکھ دی۔
خوارج کا ظہور، جنگِ نہروان، اور حضرت علیؓ کی شہادت
تحکیم کے بعد نیا بحران
تحکیم قبول ہونے کے بعد حضرت علیؓ کے لشکر کا ایک گروہ اچانک اپنے ہی سابقہ مؤقف سے پھر گیا۔
جنگِ صفین کے دوران یہی لوگ حضرت علیؓ پر زور دے رہے تھے کہ قرآن کی دعوت قبول کی جائے اور تحکیم مان لی جائے، لیکن جب تحکیم کا عمل شروع ہوا تو انہوں نے اسی فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے نعرہ لگایا:
"لَا حُكْمَ إِلَّا لِلّٰهِ”
"حکم صرف اللہ کا ہے۔”
ان کا مؤقف تھا کہ انسانوں کو ثالث بنانا جائز نہیں، اس لیے تحکیم قبول کرنا گناہ تھا۔
حضرت علیؓ کا جواب
ابتدائی تاریخی کتابوں کے مطابق حضرت علیؓ نے ان کے اس نعرے کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
"یہ بات حق ہے، لیکن اس سے مراد باطل لی جا رہی ہے۔”
حضرت علیؓ نے وضاحت کی کہ قرآن خود انسانوں کو بعض معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے، لہٰذا تحکیم بذاتِ خود قرآن کے خلاف نہیں تھی۔
خوارج کی علیحدگی
تحکیم کے بعد یہ گروہ حضرت علیؓ کا لشکر چھوڑ کر الگ ہو گیا۔
ابتدائی تاریخی کتابوں میں ان کے اجتماع کی جگہ حروراء بیان کی گئی ہے، اسی وجہ سے ابتدا میں انہیں حروریہ بھی کہا جاتا تھا، بعد میں یہی گروہ خوارج کے نام سے مشہور ہوا۔
حضرت علیؓ نے کئی مرتبہ ان سے مذاکرات کیے اور انہیں واپس آنے کی دعوت دی۔
تاریخی روایات کے مطابق ان میں سے ایک بڑی تعداد واپس آ گئی، لیکن ایک سخت گیر گروہ اپنے موقف پر قائم رہا۔
جنگِ نہروان
بعد ازاں خوارج کے بعض افراد پر عام مسلمانوں کے قتل، راستے روکنے اور ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں کے الزامات سامنے آئے۔
حضرت علیؓ نے پہلے انہیں پرامن طریقے سے واپس آنے کی دعوت دی، لیکن جب انہوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو 38 ہجری میں نہروان کے مقام پر جنگ ہوئی۔
ابتدائی تاریخی کتابوں کے مطابق اس جنگ میں خوارج کو فیصلہ کن شکست ہوئی اور ان کی بڑی تعداد مار دی گئی، اگرچہ ان کا نظریہ مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔
حضرت علیؓ کی شہادت
جنگِ نہروان کے بعد خوارج کے بعض افراد نے حضرت علیؓ، حضرت معاویہ اور عمرو بن العاص کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔
رمضان 40 ہجری میں عبدالرحمن بن ملجم نے کوفہ کی مسجد میں حضرت علیؓ پر حملہ کیا۔
چند روز بعد حضرت علیؓ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
حضرت معاویہ پر بھی حملہ کیا گیا لیکن وہ جان بچانے میں کامیاب رہے، جبکہ عمرو بن العاص اس روز نماز کی امامت نہیں کر رہے تھے، اس لیے حملہ آور انہیں قتل نہ کر سکا۔
جنگِ صفین کا اختتام میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اسلامی ریاست کے اندر ایک نئے بحران کے آغاز پر ہوا۔
واقعات کی ترتیب سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
- تحکیم نے جنگ تو روک دی، لیکن اختلاف ختم نہ کر سکی۔
- حضرت علیؓ کے اپنے لشکر کا ایک حصہ ان کے خلاف ہو گیا۔
- اسی گروہ نے بعد میں خوارج کی شکل اختیار کی۔
- نہروان کی جنگ صفین کا براہِ راست نتیجہ تھی۔
- آخرکار حضرت علیؓ کی شہادت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہوئی۔
اس طرح صفین صرف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ وہ موڑ تھی جس کے بعد اسلامی ریاست مسلسل اندرونی سیاسی بحرانوں کا شکار ہوتی چلی گئی۔
جنگِ صفین کے نتائج اور شواہد کی بنیاد پر تاریخی تجزیہ
جنگِ صفین کے فوری نتائج
37 ہجری میں ہونے والی جنگِ صفین کسی ایک فریق کی واضح عسکری فتح پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ تحکیم (ثالثی) کے فیصلے کے بعد رک گئی۔ تاہم اس جنگ کے سیاسی اور تاریخی اثرات کئی برس تک جاری رہے۔
ابتدائی تاریخی کتابوں کی روشنی میں جنگِ صفین کے اہم نتائج درج ذیل تھے:
- اسلامی ریاست پہلی مرتبہ دو بڑے سیاسی مراکز میں تقسیم ہو گئی، ایک حضرت علیؓ کی خلافت اور دوسرا حضرت معاویہ کی شام کی حکومت۔
- تحکیم کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف ختم نہ ہو سکا۔
- حضرت علیؓ کے لشکر سے خوارج نامی ایک نیا گروہ وجود میں آیا۔
- جنگِ نہروان پیش آئی۔
- 40 ہجری میں حضرت علیؓ شہید ہو گئے۔
- بعد ازاں حضرت حسنؓ نے 41 ہجری میں حضرت معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کی، جس کے بعد پوری اسلامی ریاست حضرت معاویہ کے زیرِ انتظام آ گئی۔ اس سال کو تاریخ میں عام الجماعہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
شواہد کی بنیاد پر تاریخی تجزیہ
جنگِ صفین کے بارے میں ابتدائی تاریخی کتابوں، صحیح احادیث اور دستیاب تاریخی شواہد سے درج ذیل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
1. حضرت علیؓ اس وقت اسلامی ریاست کے خلیفہ تھے۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد مدینہ میں حضرت علیؓ کی بیعت ہوئی اور انہوں نے خلافت سنبھالی۔ یہ واقعہ ابتدائی تاریخی کتابوں میں واضح طور پر موجود ہے۔
2. حضرت معاویہ نے حضرت علیؓ کی بیعت قبول نہیں کی۔
ابتدائی تاریخی کتابوں کے مطابق حضرت معاویہ نے حضرت علیؓ کی بیعت سے انکار کیا، شام کی حکومت اپنے پاس برقرار رکھی اور قصاصِ عثمان کو بیعت سے پہلے کی شرط قرار دیا۔
یہ ایک ثابت شدہ تاریخی واقعہ ہے۔
3. قصاصِ عثمان کے اصول پر اختلاف نہیں تھا، بلکہ اس کے وقت اور طریقۂ کار پر اختلاف تھا۔
ابتدائی تاریخی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ دونوں حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو سزا دینے کے حامی تھے۔
اصل اختلاف یہ تھا کہ:
- حضرت علیؓ پہلے ریاست کو متحد اور مستحکم کرنا چاہتے تھے، پھر قصاص لینا چاہتے تھے۔
- حضرت معاویہ پہلے قصاص پر اصرار کر رہے تھے، پھر بیعت کی بات کرتے تھے۔
4. حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت جنگِ صفین کا سب سے اہم واقعہ تھی۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان کہ:
"عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔”
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔
جنگِ صفین میں حضرت عمارؓ حضرت علیؓ کے لشکر میں شہید ہوئے، جس کی وجہ سے یہ حدیث اس جنگ کے تاریخی تجزیے میں مرکزی حیثیت اختیار کر گئی۔
5. قرآن نیزوں پر اٹھانے کے بعد جنگ کا رخ بدل گیا۔
ابتدائی تاریخی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تحکیم کی تجویز کے بعد جنگ رک گئی، حالانکہ اس سے پہلے حضرت علیؓ کے لشکر کو برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔
حضرت علیؓ نے اس تجویز کے بارے میں اپنے تحفظات ظاہر کیے، لیکن اپنے لشکر کے ایک بڑے حصے کے اصرار پر تحکیم قبول کی۔
6. کیا حضرت معاویہ کی کارروائی کو بغاوت کہا جا سکتا ہے؟
یہ سوال جنگِ صفین کا سب سے اہم تاریخی اور قانونی سوال ہے۔
تاریخی طور پر درج ذیل حقائق ثابت ہیں:
- حضرت علیؓ خلیفہ تھے۔
- حضرت معاویہ نے ان کی بیعت نہیں کی۔
- انہوں نے شام میں اپنی الگ سیاسی اور عسکری قوت برقرار رکھی۔
- دونوں فریقوں کے درمیان جنگ ہوئی۔اسلامی سیاسی اصولوں کے مطابق جب کسی قائم شدہ خلیفہ کے خلاف ہتھیار اٹھائے جائیں تو اسے خلیفہ کے خلاف مسلح بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ دستیاب تاریخی شواہد کی بنیاد پر متعدد مؤرخین اور اسلامی قانون کے ماہرین نے حضرت معاویہ کے اقدام کو اسی اصول کے تحت خلیفہ حضرت علیؓ کے خلاف مسلح بغاوت قرار دیا ہے۔
ابتدائی تاریخی کتابیں عام طور پر واقعات بیان کرتی ہیں، عدالت کی طرح قانونی فیصلے صادر نہیں کرتیں۔ اس لیے ایک محقق کے لیے زیادہ درست انداز یہ ہے کہ پہلے تمام شواہد پیش کرے، پھر واضح کرے کہ اسلامی سیاسی اصولوں کی روشنی میں ان شواہد سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
اختتامی کلمات
جنگِ صفین محض دو لشکروں کے درمیان ہونے والی ایک جنگ نہیں تھی بلکہ اسلامی تاریخ کا وہ موڑ تھی جس نے خلافت، سیاسی اقتدار، ریاستی وحدت اور امت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
اس مضمون میں پیش کیے گئے تمام اہم واقعات کو زمانی ترتیب کے مطابق بیان کیا گیا ہے اور ہر مرحلے میں قرآن، صحیح احادیث اور ابتدائی تاریخی کتابوں کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ جہاں تاریخی روایات میں اختلاف موجود ہے، وہاں اختلاف کی نشاندہی کی گئی ہے، اور جہاں کسی نتیجے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں، وہاں وہ نتیجہ انہی شواہد کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔
تاریخ کا مقصد شخصیات کے بارے میں جذباتی فیصلے کرنا نہیں، بلکہ دستیاب شواہد کی روشنی میں واقعات کو سمجھنا ہے، تاکہ قاری خود بھی ان حقائق کا تنقیدی جائزہ لے سکے۔
